Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

Mere Khawab Reza Reza | Maha Malik Wasif Ali Wasif Amaia Or Oski Ajeeb Chahat

SKU: 69058945392

4.5
EUR450.00 EUR498.00

Pay in 4 interest-free payments of $112.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 1 - Aug 6

Live Spec

Mere Khawab Reza Reza | Maha Malik Wasif Ali Wasif Amaia Or Oski Ajeeb ChahatMere Khawab Reza Reza Maha Malik

Store: armz-ageddon.com · Domain: armz-ageddon.com

Description

Amaia Or Oski Ajeeb Chahat | Muntaha Arain

زہرا ناول کا مرکزی نسوانی کردار ہے جو ہر طرح سے ایک مضبوط کردار ہے، ایک باغی کردار جو معاشرے کے ہر فرد سے لڑنے کو تیار رہتا ہے، جو کسی جنسی امتیاز کا قائل نہیں ہے۔ زہرا تینوں مردوں میں بیٹھ کر بلاجھجھک ان کا ہر طرح سے مقابلہ کرتی اور ساتھ دیتی ہے ۔فکری مباحث ہوں یا کوئی جسمانی مدد، وہ ہر سطح پر برابری کی قائل ہے۔ یاور حسین کے بیٹوں اور بیوی کے گھر چھوڑ جانے کے باوجود زہرا اپنے والد کے ساتھ اس کے گھر میں رہتی ہے اور آخری دم تک اس گھر کی ملکیت کے لیے ہر ایک سے لڑتی ہے۔ وہ اپنی شناخت کی تلاش میں انعام گڑھ کا کٹھن سفر اختیار کرتی ہے۔ کبیر سے اس کی وابستگی جب بڑھتی ہے تو وہ بااختیار ہوتے ہوئے بھی بے اختیار محسوس کرتی ہے۔ وہ کبیر کے ہی جسم کا ایک حصہ بن کر اس کے لکھنے میں اس کی مدد کرتی ہے۔ اس کی ہمت اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب وہ آگ میں جھلستے اولڈ بک سٹور میں گھس کر کبیر کو بچا لیتی ہے۔ معاشرتی اخلاقیات اور روایات سے بے خوف و خطر تین مردوں اور پھر ایک مرد کے ساتھ گھومتا دیکھ کر پولیس والوں سے لے کر عام گھریلو نوکرانی تک ہر فرد اس کے کردار پر انگلی اٹھاتا ہے۔ ناول کے شروع سے آخر تک وہ کبیر کی ٹکر کا واحد کردار ہے جو اکثر کبیر جیسے نظریہ باز اور لایعنی باتوں کے بادشاہ کو بھی اپنے جوابات اور سوالات سے خاموش کروا دیتی ہے۔

وہ چھوٹے چھوٹے امنگ بھرے قدم اٹھاتی مال روڈ کی جانب چل دی - یہ سوچ کر کہ اس کے تیز چلنے سے شہر یار کہیں پیچھے ہی نہ رہ جائے - " جیسے ہی آپ یہ پڑھتے ہیں تو آپ کو 27 سال پہلے والا منظر یاد آ جاتا ہے ، جب شازی کہتی ہے " اتنی دیر

برٹرینڈ رسل کو آپ کے فلسفے کی تاریخ کا آخری بڑا فلسفی قرار دے سکتے ہیں۔ زندگی میں ہی اس کی شہرت تمام براعظموں تک پھیل گئی تھی اس کی شہرت صرف علمی اور فکری حلقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ ارباب ادب و فن اور تعلیم یافتہ عوام تک بھی پہنچی تھی۔ رسل کی تحریروں کو چاہنے والوں کے علاوہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جو رسل کو بیسویں صدی کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے اور اس کو تہذیب اور انسانیت کا نمائندہ خیال کرتے تھے۔ اس کی وفات کے لگ بھگ نصف صدی بعد کسی اور فلسفی کو یہ اعزاز اور یہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

( جب کھیت جاگے) اس کے بعد افسانہ کچرا بابا افسانہ

Mere Khawab Reza Reza | Maha Malik Wasif Ali Wasif Amaia Or Oski Ajeeb ChahatMere Khawab Reza Reza Maha Malik

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products